بلوچستان میں فنی تعلیم کے فروغ کیلئے 12 ماڈل اداروں کی اپ گریڈیشن شروع

اسلام آباد۔27فروری (اے بی سی):نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک ) یورپی یونین اور ڈوئچے گیزیل شافٹ فر انٹرنیشنل زوسامن آربائٹ (جی آئی زیڈ) کے تعاون سے بلوچستان میں 12 ماڈل ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ ادارے قائم اور اپ گریڈ کر رہا ہے۔اس اقدام کا مقصد صوبے میں تربیتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے، جس کے تحت اداروں کو جدید آلات، مشینری اور ضروری سازوسامان سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق کوئٹہ اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز، اوتھل میں تین سینٹرز آف ایکسیلینس قائم کیے جا رہے ہیں۔

ان مراکز کا مقصد اعلیٰ مہارتوں کے فروغ، جدت طرازی اور صنعت سے ہم آہنگ تربیت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ مقامی افرادی قوت کی صلاحیتوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔دستاویز کے مطابق چین کے تعاون سے بلوچستان کے متعدد ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز کو بھی جدید سہولیات فراہم کر کے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ان سہولیات میں ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز، جدید کمپیوٹر سسٹمز اور بہتر فرنیچر شامل ہیں تاکہ سیکھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔مزید برآں، نیوٹیک نے بلوچستان ٹیوٹا (TEVTA) کو کلسٹر بیسڈ انڈسٹری لیڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت 300 امیدواروں کی تربیت کے لیے فنڈز فراہم کیے ہیں، جس کا مقصد تربیتی اداروں اور صنعت کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنا ہے تاکہ مہارتوں کو صنعتی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔

ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے نیوٹیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد عامر جان نے کہا کہ اس اقدام سے نوجوانوں کی روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا، صنعتی پیداوار میں بہتری آئے گی اور صوبے میں پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جدید تربیتی ڈھانچے اور مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں پر توجہ دراصل ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بلوچستان کو آئندہ برسوں میں پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔دستاویز کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام (بیچ-II) 2024-25 کے تحت بلوچستان بھر میں مجموعی طور پر 186 اداروں کو مختص کیا گیا ہے جہاں 6,252 تربیت یافتگان کو مختلف شعبوں میں تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کو سب سے بڑا حصہ دیا گیا ہے، جس کے تحت 69 اداروں میں 3,125 تربیت یافتگان کو تربیت دی جائے گی۔

مینوفیکچرنگ اینڈ ٹیکسٹائل کے لیے 38 اداروں میں 920 تربیت یافتگان کا ہدف مقرر ہے۔ایستھیٹکس، ہیلتھ کیئر اینڈ سروسز کے تحت 31 اداروں میں 700 تربیت یافتگان جبکہ زراعت کے شعبے میں 14 اداروں میں 535 افراد کو تربیت دی جائے گی۔کنسٹرکشن اور الیکٹریکل/انرجی کے شعبے میں 10 اداروں میں 280 تربیت یافتگان، زبانوں کے شعبے میں 10 اداروں میں 220 افراد، مائنز اینڈ منرل انڈسٹری کے تحت 6 اداروں میں 224 افراد، بینکنگ اینڈ فنانس کے 4 اداروں میں 140 افراد جبکہ ایچ ایم او اور ڈرائیونگ ٹریڈز کے 4 اداروں میں 108 تربیت یا فتگان کو تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے