پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرکے افغان حکومت نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ، محمد علی درانی

لاہور۔28فروری (اے پی پی)سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا وقت آ گیا ہے ۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے محمد علی درانی نے افغانستان کی طرف سے پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کے افغان حکومت کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی میں افغان حکومت کا پاکستان پر بلاجواز حملہ نہ صرف احسان فراموشی ہے بلکہ غیر اسلامی اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

یہ اقدام کرکے افغان حکومت نے دہشت گردوں کی سرپرستی کا اعتراف کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرکے افغان حکومت نے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے جس پر معاہدے کے ضامنوں کو افغان حکومت سے جواب دہی کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ پہلے ہی افغانستان حکومت پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے دنیا کو خبردار کر چکی ہے کہ افغانستان دہشت گردوں کا مرکز بن چکا ہے

۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کا چھوڑا ہوا اسلحہ پوری دنیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی استعمال ہو رہا ہے جس کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے۔ دنیا کو اس امریکی اسلحہ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔محمد علی درانی نے پاکستان کے دفاع میں بھرپور جوابی کارروائیوں پر پاکستانی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہماری افواج نے ملکی سلامتی اور علاقائی و عالمی امن کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کے دوران افغان حکومت کا پاکستان پر حملہ واضح ثبوت ہے کہ اسرائیل، بھارت اور افغان حکومت کا ٹرائیکا ایک ہی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ملکی سلامتی کو لاحق خطرات اور دہشت گردی کی صورتحال کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر مکمل اتحاد اور قومی سطح پر ایک سوچ کے ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے