پاکستان میں ادرک کی مقامی پیداوار میں اضافہ، درآمدات میں کمی کا ہدف

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی): پاکستان میں ادرک کی درآمدات پر انحصار بتدریج کم ہونے کی توقع ہے کیونکہ مقامی سطح پر اس کی کاشت میں تیزی آ رہی ہے جس کی بنیاد تحقیقی جدت، کاشتکاروں کی شمولیت اور حکومتی معاونت پر ہے۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ (اے اے آر آئی) فیصل آباد کے تحت جاری تحقیقی سرگرمیوں کے نتیجے میں ملک میں ادرک کی کاشت کو فروغ ملا ہے۔ اے اے آر آئی کے پرنسپل سائنسدان امیر لطیف نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقی ادارے نے ترقی پسند کاشتکاروں کے اشتراک سے ادرک کی مقامی کاشت کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محققین نے درآمد شدہ جراثیمی مادے (جرم پلازم) کو مقامی موسمی حالات کے مطابق جانچ کر ادرک کی موزوں اقسام تیار کیں، ٹنل اور شیڈ بیسڈ پیداواری نظام متعارف کرایا اور مقامی طور پر تیار کردہ قسم ’’اے اے آر آئی جنجر-23‘‘ بھی متعارف کرائی گئی۔ ادرک میلوں اور آگاہی مہمات کے ذریعے کسانوں کو فصل سے روشناس کرایا گیا جس سے مارکیٹ روابط بھی مضبوط ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی معاونت اس پیش رفت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ ’’ٹرانسفر آف ایگریکلچر ان پوٹھوہار‘‘ پروگرام کے تحت کسانوں کو انفراسٹرکچر، بیج، ٹنلز، شیڈ نیٹس اور ڈرپ آبپاشی نظام پر 70 فیصد تک سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں سالانہ تقریباً 80 سے 100 ہزار ٹن ادرک استعمال ہوتی ہے جس کا بیشتر حصہ چین، تھائی لینڈ، میانمار اور انڈونیشیا سے درآمد کیا جاتا ہے جس پر سالانہ تقریباً 50 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مقامی پیداوار اب بھی محدود ہے اور اندازاً 40 سے 50 ٹن کے درمیان ہے جو زیادہ تر فیصل آباد، پوٹھوہار، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں ہوتی ہے۔امیر لطیف نے بتایا کہ راولپنڈی کے نزدیک ڈاوڑی ایگرو فارمز، چک شہزاد کے نشتر فارمز، چیچہ وطنی کے جی این فارمز اور جڑانوالہ کے رائے اسلم فارمز جیسے ترقی پسند کاشتکار اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے ادرک کی کاشت میں پیش پیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ تحقیقی اور نمائشی پلاٹس کسانوں کو جدید طریقۂ کاشت سمجھنے میں مدد دے رہے ہیں جبکہ مقامی بیج کی پیداوار جو پہلے مکمل طور پر درآمدات پر منحصر تھی، اب بتدریج بڑھ رہی ہے۔

اگرچہ یہ مقدار ابھی محدود ہے تاہم آنے والے سالوں میں اس میں نمایاں بہتری کی توقع ہے۔امیر لطیف کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان آئندہ سات سے دس سال میں ادرک کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کسانوں کو مشورہ دیا کہ وہ محدود پیمانے پر آغاز کریں، سفارش کردہ ٹیکنالوجی اپنائیں، معیاری بیج استعمال کریں اور حکومتی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں تاکہ بہتر منافع حاصل کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ادرک کی کاشت پنجاب کے پوٹھوہار خطے، خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں اور شمالی خطوں میں شیڈ نیٹس اور ٹنلز کے تحت کامیابی سے کی جا سکتی ہے۔

فیصل آباد، راولپنڈی، اسلام آباد اور باڑہ میں مختلف موسمی حالات کے تحت تحقیقی آزمائشیں بھی کی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تازہ استعمال کے علاوہ ویلیو ایڈیشن کا عمل بھی فروغ پا رہا ہے جس کے تحت ادرک کا پائوڈر، پیسٹ، چائے اور اچار تیار کیے جا رہے ہیں۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ادرک خوشبودار، اعلیٰ معیار کی حامل اور کیمیائی ادویات کے کم استعمال کے باعث ملکی اور عالمی منڈیوں کے لیے موزوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادرک ایک منافع بخش فصل ہے جو درآمدات کا متبادل بننے اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے