پاکستان کے شمالی علاقوں میں 2 لاکھ 68 ہزار ہیکٹر رقبہ چائے کی کمرشل کاشت کے لیے موزوں قرار

اسلام آباد۔2جنوری (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جانب سے کی گئی تازہ جانچ کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقوں میں تقریباً 2 لاکھ 68 ہزار ہیکٹر رقبہ چائے کی کمرشل کاشت کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے جس سے نہ صرف درآمدی انحصار کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی طور پر پائیدار زرعی ترقی کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔ایف اے او کے ٹیکنیکل ٹی کنسلٹنٹ ڈاکٹر فرخ سیار حامد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ تفصیلی سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں وسیع رقبہ تجارتی بنیادوں پر چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔

ان اضلاع میں مانسہرہ، ایبٹ آباد، بٹگرام، شانگلہ، سوات، بونیر، اپر دیر اور لوئر دیر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دریافت پاکستان کو چائے کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور دیہی علاقوں میں پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ڈاکٹر فرخ کے مطابق چائے کا پودا ماحولیاتی لحاظ سے بھی نہایت موزوں ہے کیونکہ یہ ایک دائمی فصل ہے جو 70 سے 100 سال تک پیداوار دیتی ہے اور اسے بار بار ہل چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے مٹی کی ساخت اور زرخیزی محفوظ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں چائے کی کاشت مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتی ہے، پانی کے بہاؤ کو قابو میں رکھتی ہے اور ڈیموں اور آبی ذخائر کی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چائے بنجر زمین کو بھی قابلِ کاشت بنانے میں مدد دیتی ہے اور پاکستان میں یہ فصل تقریباً ایک ہزار میٹر یا اس سے زیادہ بلندی والے علاقوں میں بہتر نشوونما پاتی ہے، جہاں مقامی موسم اور بلندی اس کے ذائقے اور معیار کو بہتر بناتے ہیں۔ایف اے او چائے اور زیتون کی مشترکہ کاشت کے ماڈل کو بھی فروغ دے رہا ہے تاکہ کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہو، کاربن کے اخراج میں کمی آئے اور حیاتیاتی تنوع کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر فرخ کے مطابق اس ماڈل کے تحت کسان ایک ہی زمین سے بیک وقت متعدد فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چائے کے باغات کو ایک وسیع تر گرین اکانومی حکمتِ عملی کے تحت دیکھا جا رہا ہے، جس میں سیاحت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔

منصوبے کے تحت خیبرپختونخوا کے سیاحتی علاقوں جیسے کاغان، کالام اور چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک راستوں کے ساتھ چائے کے باغات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ڈاکٹر فرخ نے بتایا کہ دنیا میں چائے پانی کے بعد سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مشروب ہے، مگر پاکستان اب بھی اپنی ضروریات کے لیے زیادہ تر چائے درآمد کرتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ 95 ہزار 980 میٹرک ٹن کالی چائے درآمد کی جس کی مالیت 116 ارب روپے رہی، جبکہ سبز چائے کی درآمدات پر مزید 68 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں چائے کی کاشت کا آغاز 1982 میں ایک چینی فزیبلٹی اسٹڈی سے ہوا تھا، جس کے بعد 1986 میں نیشنل ٹی ریسرچ اسٹیشن قائم کیا گیا جو بعد ازاں نیشنل ٹی اینڈ ہائی ویلیو کراپس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تبدیل ہوا۔

اس ادارے میں چینی ٹیکنالوجی سے لیس گرین ٹی پروسیسنگ یونٹ اور ترکی کی جانب سے فراہم کردہ بلیک ٹی پلانٹ بھی موجود ہے۔اگرچہ پیداوار ابھی محدود ہے، تاہم پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے جاپان کو محدود مقدار میں سبز چائے برآمد کر رہا ہے۔ ڈاکٹر فرخ کے مطابق ہر سال چار سے پانچ ٹن سبز چائے جاپان بھیجی جاتی ہے، جسے وہاں خاصی پذیرائی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ چائے کی کاشت ایک محنت طلب شعبہ ہے جس میں نرسری سے لے کر چنائی، پروسیسنگ اور پیکنگ تک روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے۔ چونکہ چائے کے پتے چار گھنٹوں کے اندر پراسیس کرنا ضروری ہوتے ہیں، اس لیے فیکٹریاں عموماً کھیتوں کے قریب قائم کی جاتی ہیں جس سے مقامی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

ڈاکٹر فرخ کے مطابق ایف اے او کا ہدف چائے کی کاشت کو تحقیقی سطح سے نکال کر تجارتی بنیادوں پر فروغ دینا ہے، جس کے لیے سرکاری و نجی شراکت داری کے ماڈلز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان میں چھوٹے کسانوں کے منصوبے، دیہی کلسٹرز اور سرکاری زمین پر بڑے باغات شامل ہیں، تاکہ پائیدار ترقی اور معاشی فوائد کو یکجا کیا جا سکے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے