پنجاب سیڈ کارپوریشن کی جانب سے کشتکاروں کو منظور شدہ کپاس کی 6اقسام کا بیج فراہم کیا جائے گا

اسلام آباد۔28فروری (اے پی پی):پنجاب سیڈ کارپوریشن (پی ایس سی) صوبہ بھر کے کاشتکاروں کو جاری قبل از وقت کاشت مہم کے لیے کپاس کی چھ منظور شدہ اقسام کا مصدقہ بیج فراہم کرے گی۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ڈائریکٹر شاہد قادر نے بتایا کہ فروخت کے لیے دستیاب اقسام میں ایس ایس-32، ایس ایس-102، نیاب-878، نیاب-کرن، نیاب-سنیب اور نیاب-545 شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ اقسام کے مصدقہ فزی بیج کی قیمت 3,700 روپے فی 10 کلوگرام بیگ مقرر کی گئی ہے، جبکہ مصدقہ ڈی لنٹڈ بیج 2,500 روپے فی 5 کلوگرام بیگ کے حساب سے دستیاب ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیج پنجاب سیڈ کارپوریشن کے تمام سیلز سنٹرز اور مجاز ڈیلرز کے ذریعے فراہم کیا جائے گا تاکہ کاشتکاروں کو بروقت اور بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔پنجاب حکومت نے ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان ڈویژنز کے جنوبی اور وسطی اضلاع میں 7 لاکھ ایکڑ رقبہ قبل از وقت کاشت شدہ کپاس کے تحت لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بہاولپور ڈویژن میں روایتی کاشت کے دورانیے کے تحت کپاس کی کاشت کو فروغ دیا جائے گا، کیونکہ صوبائی حکومت بہاولپور کو ایک مخصوص “کاٹن ویلی” کے طور پر ترقی دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ماہرین کے مطابق چند سال قبل پنجاب میں کیڑوں کے حملوں کے خدشات کے باعث کپاس کی قبل از وقت کاشت کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی، تاہم بدلتے موسمی حالات کے پیش نظر گزشتہ چند برسوں میں اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی)، ملتان کے سربراہ برائے ٹیکنالوجی ٹرانسفر ساجد محمود نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ماضی میں کپاس کی جلد کاشت سودمند ثابت نہیں ہوئی تھی، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے بہتر پیداوار کے حصول کے لیے قبل از وقت کاشت کو ناگزیر بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں قبل از وقت کاشت کے لیے ٹرپل جین اقسام تجویز کی جاتی ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی بہتر نشوونما اور زیادہ پیداوار کے لیے مؤثر فصل مینجمنٹ انتہائی اہم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صحت مند کپاس کی کاشت کے لیے دن کے وقت درجہ حرارت 28 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ رات کے وقت 16 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہونا چاہیے۔

ان درجہ حرارت میں اس خطے میں کپاس کی افزائش بہتر طریقے سے ہو سکتی ہے۔جنرز کمیونٹی کے مطابق سندھ اور پنجاب حکومتوں کی جانب سے قبل از وقت کاشت کے فروغ کے اقدامات کے باعث رواں سال کپاس کی کاشت میں اضافہ متوقع ہے۔کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ سندھ کے ساحلی اضلاع بدین، ٹھٹھہ، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، فاضل راہو اور گھارو میں فروری کے دوسرے ہفتے کے دوران کپاس کی کاشت کا آغاز ہو چکا تھا، جبکہ اب پنجاب میں بھی کاشت جاری ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیر کاشت رقبے اور پیداوار میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی کپاس پر انحصار نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے