اسلام آباد۔11 مئی (اے بی سی):خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 26- 2025کے دوران ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری ’’کے پی رورل انویسٹمنٹ اینڈ انسٹی ٹیوشنل سپورٹ پراجیکٹ‘‘ کے تحت 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے ہیں، جس کا مقصد صوبے کے ضم شدہ اضلاع میں دیہی انفراسٹرکچر، بنیادی خدمات کی فراہمی اور ادارہ جاتی استعداد کو بہتر بنانا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 109.9 ارب روپے ہے، جبکہ اس پر عملدرآمد محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ (پی ایچ ای ڈی )، کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو ) اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔دستاویزات کے مطابق جون 2025 تک منصوبے کے تحت مجموعی اخراجات 70 کروڑ 70 لاکھ روپے تک پہنچ گئے تھے۔
مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے 4.2 ارب روپے مختص کیے، جن میں سے 58 کروڑ 4 لاکھ 60 ہزار روپے پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں، جو 12.29 فیصد ریلیز ریٹ ظاہر کرتا ہے۔ یہ منصوبہ جون 2031 تک جاری رہے گا۔محکمہ زراعت کے تحت دیہی علاقوں میں جدید زرعی طریقوں کے فروغ اور نجی شعبے کی زرعی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اب تک 168 زرعی مشینیں تقسیم کی جا چکی ہیں تاکہ کھیتوں میں پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے کاروبار کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پانی ذخیرہ کرنے اور مٹی کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے 145 ڈھانچے مکمل کیے جا چکے ہیں۔
منصوبے کے تحت دور دراز علاقوں میں جدید زرعی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ تقریباً 310 واک اِن ٹنل سسٹمز اور 213 ورٹیکل فارمنگ یونٹس نصب کیے گئے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔پراجیکٹ مینجمنٹ اور مانیٹرنگ کا نظام فعال ہے۔ پراجیکٹ کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ یونٹ (پی سی ایم یو ) قائم کر دیا گیا ہے جبکہ نگرانی اور جانچ پڑتال کے لیے فرموں کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں تاکہ منصوبے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
کمیونیکیشن اینڈ ورکس سیکٹر میں سرکاری اراضی پر منصوبہ بندی کی گئی 14 میں سے 5 اسکیموں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ باقی منصوبے منظوری اور پی سی ون تیاری کے مراحل میں ہیں۔مزید 18 مقامات کے لیے زمین کے حصول کا عمل بھی محکمہ خزانہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر ) اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے جاری ہے۔
پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے تحت صفائی کے منصوبوں کے ڈیزائن اور نگرانی کے لیے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اس وقت 32 منصوبے زیرِ تیاری ہیں جن میں 13 پینے کے پانی کی فراہمی کی اسکیمیں اور 19 سینیٹیشن منصوبے شامل ہیں۔باجوڑ بحالی منصوبے کو صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (پی ڈی ڈبلیو پی ) سے منظوری مل چکی ہے جبکہ مہمند، خیبر، کرم اور اورکزئی اضلاع کے منصوبوں کے لیے پی سی ون دستاویزات تیار کی جا رہی ہیں۔صفائی سے متعلق منصوبہ بندی اور مالیاتی ماڈلز پر نظرثانی کی جا رہی ہے جبکہ حتمی ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد اخراجات کے نئے تخمینے شامل کیے جائیں گے۔

