اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):پاکستان نے گزشتہ پانچ برس کے دوران 26 ممالک کو تقریباً 1,700 میٹرک ٹن ہومیوپیتھک ادویات برآمد کیں، جن سے 50 لاکھ ڈالر سے زائد زرمبادلہ حاصل ہوا۔وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈی نیشن (این ایچ ایس آراینڈ سی ) کے پانچ سالہ اعداد و شمار (2020-21 تا 2024-25)، جو ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہیں، کے مطابق مجموعی طور پر 1,696.27 میٹرک ٹن ہومیوپیتھک ادویات 26 ممالک کو برآمد کی گئیں جن کی مالیت 5.23 ملین ڈالر رہی۔جن ممالک کو یہ ادویات برآمد کی گئیں ان میں سوڈان، بنگلہ دیش، افغانستان، تاجکستان، امریکا، کینیا، یمن، متحدہ عرب امارات، گھانا، ملائیشیا، موریتانیا، ماریشس، سری لنکا، فجی، لیسوتھو، کمبوڈیا، جنوبی افریقہ، گویانا، نیوزی لینڈ، چین، برطانیہ، کینیڈا اور سنگاپور شامل ہیں۔
ان 26 ممالک میں سوڈان، بنگلہ دیش اور افغانستان بڑے درآمد کنندگان رہے۔ سوڈان نے پانچ برس میں 274.96 میٹرک ٹن، بنگلہ دیش نے 158.87 میٹرک ٹن اور افغانستان نے 157.96 میٹرک ٹن ادویات درآمد کیں۔سالانہ بنیادوں پر برآمدی مقدار 2020-21 میں 238.99 میٹرک ٹن، 2021-22 میں 165.93 میٹرک ٹن، 2022-23 میں 229.40 میٹرک ٹن، 2023-24 میں 284.00 میٹرک ٹن اور 2024-25 میں 777.95 میٹرک ٹن رہی۔این ایچ ایس آر اینڈسی کے مطابق برآمدات کی مالیت 2020-21 میں 0.86 ملین ڈالر، 2021-22 میں 0.91 ملین ڈالر، 2022-23 میں 0.99 ملین ڈالر، 2023-24 میں 0.87 ملین ڈالر اور 2024-25 میں 1.60 ملین ڈالر رہی۔
دوسری جانب پاکستان نے گزشتہ پانچ برس میں سات ممالک اور خطوں جرمنی، فرانس، سوئٹزرلینڈ، سعودی عرب، یورپی یونین اور سپین سے 7,611.40 میٹرک ٹن ہومیو پیتھک ادویات 21.28 ملین ڈالر میں درآمد کیں۔درآمدی مقدار 2020-21 میں 1,966.20 میٹرک ٹن، 2021-22 میں 2,065.80 میٹرک ٹن، 2022-23 میں 2,099.20 میٹرک ٹن، 2023-24 میں 1,231.30 میٹرک ٹن اور 2024-25 میں 248.9 میٹرک ٹن رہی۔ 2024-25 میں جرمنی سے 248.9 میٹرک ٹن ادویات 5.18 ملین ڈالر میں درآمد کی گئیں، جو سب سے زیادہ تھیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ہومیوپیتھک ادویات جسم کے قدرتی نظام اور خودکار شفایابی کے عمل کو متحرک کرتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ادویات عموماً محفوظ ہوتی ہیں اور ان کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہر محمد مہر نے کہا کہ ہومیوپیتھی انسان کو مجموعی طور پر دیکھتی ہے اور جسمانی، ذہنی اور جذباتی علامات کا علاج کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ علاج دائمی بیماریوں، الرجی، نظامِ ہاضمہ کے مسائل اور اسٹریس سے متعلق امراض میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم، اس کی تاثیر مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے۔محمد مہر کے مطابق ہومیوپیتھک ادویات کی برآمد نہ صرف مینوفیکچررز بلکہ قومی معیشت کے لئے بھی اہم مالی اور سٹریٹجک فوائد رکھتی ہے۔ عالمی سطح پر قدرتی اور متبادل علاج کی طلب بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی سے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا ہوتے ہیں، منافع میں اضافہ ہوتا ہے اور صارفین کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں اور معیشت مستحکم ہوتی ہے۔
اس شعبے سے مینوفیکچرنگ، تحقیق، مارکیٹنگ اور لاجسٹکس سمیت کئی شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جو ملکی صنعتوں کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معیاری اور جدید ہومیوپیتھک مصنوعات کی برآمد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بناتی ہے، جس سے بین الاقوامی تعاون، سرمایہ کاری اور علم کے تبادلے کے دروازے کھلتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ ادویات عالمی سطح پر عوام کو محفوظ اور قدرتی علاج تک رسائی فراہم کرتی ہیں، خاص طور پر وہاں جہاں ہولسٹک صحت کی طلب بڑھ رہی ہے۔

