پاکستان نے چین اور آئی آر آر آئی سے 945 جرم پلازم لائنیں حاصل کر لیں

اسلام آباد۔26نومبر (اے پی پی):پاکستان نے قومی ترقیاتی پروگراموں کے تحت اپنے چاول بریڈنگ بیس کو مضبوط بنانے کے لئے چین اور انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آئی آر آرآئی) سے 945 جرم پلازمgerm plasm lines) (لائنیں حاصل کر لی ہیں۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایک دستاویز، جو ویلتھ پاکستان کے پاس موجود ہے، کے مطابق پراڈکٹویٹی انہانسمنٹ آف رائس منصوبہ (2019–2025) کے تحت متعدد اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں چین اور آئی آر آر آئی سے 945 جرم پلازم لائنوں کا حصول، چاول کی 14 نئی اقسام کی تیاری، اور کسانوں تک رسائی کے لئے 450 سے زائد فیلڈ ڈیز اور تربیتی سرگرمیوں کا انعقاد شامل ہے۔

دستاویز کے مطابق کاشتکاروں کی معاونت کے لئے 1,553 یونٹ چاول کی مشینری تقسیم کی گئی جبکہ بہتر پیداوار کے لئے 3,885 ٹن تصدیق شدہ بیج بھی فراہم کیا گیا ہے۔ ملک بھر میں 2,493 ڈیمونسٹریشن پلاٹس قائم کئے گئے تاکہ بہتر زرعی طریقوں، ڈائریکٹ سیڈڈ رائس اور مکینیکل ٹرانسپلانٹنگ کے فروغ کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید اور مؤثر تکنیکیں اپنانے میں مدد مل سکے۔دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ سینو پاک ایگریکلچرل بریڈنگ انوویشنز پروجیکٹ فار ریپڈ یِیلڈ انہانسمنٹ (2020–2025) کے تحت پاکستان نے پہلا انٹیلی جنٹ گلاس ہاؤس اور سپیڈ بریڈنگ کے لیے آئی او ٹی بیسڈ سمارٹ سہولت قائم کی ہے۔ نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں جدید نیسٹ جنریشن سیکوینسنگ فسیلٹی کے قیام کے بعد جینوم بیسڈ سپیڈ بریڈنگ کا آغاز کیا گیا ہے جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی تیز رفتار تیاری ممکن ہو رہی ہے۔

چین سے حاصل کردہ جرم پلازم، جن میں تھرمو سینسیٹو جینک میل اسٹرائل (ٹی جی ایم ایس ) لائنیں بھی شامل ہیں، ہائبرڈ چاول کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔وزارت کی دستاویز میں جاری منصوبوں کی مالیاتی تفصیلات بھی شیئر کی گئی ہیں۔ پراڈکٹویٹی انہانسمنٹ آف رائس منصوبہ (2020–25) ایک بڑا پی ایس ڈی پی منصوبہ ہے جس کے لئے مجموعی طور پر 15,789 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اس میں سے 3,750 ملین روپے پی ایس ڈی پی کے تحت رکھے گئے جن میں سے اب تک 1,432 ملین روپے جاری کئے جا چکے ہیں جبکہ اخراجات 1,424 ملین روپے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اسی طرح سینو پاک بریڈنگ انوویشنز پروجیکٹ (2020–25) کے لئے 611 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ فَرٹیلائز رائٹ پاکستان پروگرام، جو انٹرنیشنل سینٹر فار ایگریکلچرل ریسرچ اِن دی ڈرائی ایریاز کے تحت چل رہا ہے، 282 ملین ڈالر کی مجموعی فنڈنگ کے ساتھ 2024 سے 2027 تک جاری رہے گا۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے