بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پوٹھوہار میں بلیک بیری، آڑو، انگور اور انجیر کے 30 ہزار پودے تقسیم کرے گا

اسلام آباد۔28نومبر (اے پی پی):بارانی ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (باری) چکوال صوبائی حکومت کے ایک منصوبے کے تحت پوٹھوہار کے برساتی زرعی نظام میں تبدیلی لانے کے لئے علاقے بھر میں 30 ہزار اعلیٰ قدر کے پھل دار پودے تقسیم کرے گا۔باری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ پودے تین سال کے دوران ’’ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن اِن پوٹھوہار پراجیکٹ‘‘ کے تحت فراہم کئے جائیں گے جس کی حال ہی میں پنجاب حکومت نے منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو ایسی ہائی ویلیو فصلوں کی طرف راغب کرنا ہے جو کم زمین سے زیادہ آمدن فراہم کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن اِن پوٹھوہار پراجیکٹ کی منظوری دے دی ہے اور باری کو ابتدائی درجے کے مونگ پھلی بیج کی پیداوار کی ذمہ داری دی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ادارہ پھلوں کی ترقی کے حصے کی بھی قیادت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ باری خطے میں بلیک بیری، آڑو، انگور، نیکٹرین اور انجیر کے 30 ہزار پودے تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ اقسام پوٹھوہار کے موسمی حالات کے مطابق زیادہ موزوں سمجھی جاتی ہیں اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر سکتی ہیں۔علاوہ ازیں ادارہ بلیو بیری اور رسبری کی آزمائشی کاشت بھی کر رہا ہے تاکہ ان کی ممکنہ متعارف کاری کا جائزہ لیا جا سکے جبکہ تین ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر زیتون کی بڑے پیمانے پر کاشت میں معاونت بھی جاری ہے۔ منصوبے میں نرسری ٹنلز اور متعلقہ ڈھانچے کی تعمیر شامل ہے جس سے باری کو ترشاوہ پودوں کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ادارہ تین سال کے دوران 25 ماڈل فارمز کے ذریعے کسانوں کو 15 ہزار ترشاوہ پودے بھی فراہم کرے گا۔ڈاکٹر ندیم نے مزید کہا کہ باری خطے میں بیج کی مسلسل قلت کو دور کرنے کے لئے 25 ہزار کلوگرام بنیادی اور قبل از بنیادی مونگ پھلی بیج تیار اور تقسیم کرے گا۔ ضرب کے بعد یہ بیج وسیع کاشتکار برادری کو فراہم کیا جائے گا۔باری چکوال پوٹھوہار میں چھ ذیلی اسٹیشن چلاتا ہے جو باغبانی اور مختلف فصلوں کی تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔ مری اور سون ویلی کے مراکز میں ایواکاڈو، پیکان، ہیزل نٹ، سیب، آڑو اور انگور پر تحقیق جاری ہے، جبکہ فتح جنگ اور اٹک کے سٹیشن گندم، مونگ پھلی اور دالوں کی بہتر اقسام تیار کر رہے ہیں۔

پنجاب کا بارانی علاقہ اٹک، راولپنڈی، جہلم اور چکوال کے تمام اضلاع اور سیالکوٹ، نارووال، گجرات، خوشاب، میانوالی، جھنگ، بھکر، لیہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔ یہ علاقہ 3 کروڑ 15 لاکھ سے زائد آبادی کا گھر ہے جو پنجاب کی کل آبادی کا تقریباً 29 فیصد ہے۔

خطہ مری-کہوٹہ کے پہاڑی علاقوں، پوٹھوہار پلیٹو، سالٹ رینج، دریائی پٹی اور تھل کے صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے جن میں بارش اور ماحولیاتی حالات کے لحاظ سے مختلف زرعی ترقیاتی ماڈلز درکار ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ زرعی شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری سے ان برادریوں کو معاشی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے