اسلام آباد۔11مئی (اے بی سی):پاکستان نے 2050 تک ’’زیرو ویسٹ اکانومی‘‘ بننے کا ہدف مقرر کرتے ہوئے 2040 تک 300 میگاواٹ تک ویسٹ ٹو انرجی صلاحیت نصب کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق ملک کو ایک ایسے وسائل مؤثر نظام کی جانب منتقل کرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے جس میں ری یوز اور ری سائیکلنگ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے گا۔ حکمت عملی کے تحت 2030 تک تمام بڑے شہروں میں فعال ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹس قائم کرنے کا ہدف بھی شامل ہے۔دستاویز کے مطابق 2030 تک 50 سے 100 میگاواٹ ویسٹ ٹو انرجی صلاحیت نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ ہر بڑے شہر میں کم از کم ایک بڑا پلانٹ لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔حکمت عملی کا بنیادی مقصد پاکستان کو سرکلر اکانومی کی جانب منتقل کرنا ہے جہاں وسائل کا مؤثر استعمال کیا جائے، فضلہ کم سے کم ہو اور استعمال شدہ مواد کو نئی ویلیو چینز کے لیے دوبارہ قابل استعمال بنایا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت پاکستان 2027 تک اپنی پہلی صنعتی سطح کی لیتھیم آئن بیٹری ری سائیکلنگ سہولت قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں اور ای ویسٹ کی ریکوری اور ری سائیکلنگ کے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں جن کے تحت 2030 تک کم از کم 30 فیصد، 2040 تک 75 فیصد اور 2050 تک تقریباً مکمل ریکوری کا ہدف رکھا گیا ہے۔پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ اور وسائل کے مؤثراستعمال پر مبنی معیشت کی جانب منتقلی کے لیے مواد، پانی اور توانائی کے استعمال کے موجودہ طریقوں پر نظرثانی ناگزیر ہے۔
تیز رفتار شہری آبادی، صنعتی توسیع اور بڑھتے ماحولیاتی دباؤ کے باعث ’’استعمال کرو، بناؤ اور پھینک دو‘‘ ماڈل اب پائیدار نہیں رہا۔دستاویز کے مطابق سرکلر اکانومی کو اپنانے سے فضلہ کم کرنے، وسائل کی عمر بڑھانے اور ماحولیاتی چیلنجز کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اہم منصوبوں میں بایو ویسٹ انرجی وینچرز لمیٹڈ کا ایک منصوبہ شامل ہے جس کے تحت نامیاتی فضلہ کو بائیو میتھین، پیلٹس اور کمپوسٹ میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس منصوبے سے درآمدی آر ایل این جی پر انحصار کم کرنے اور میتھین گیس کےاخراج میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔تقریباً 8 ملین ڈالر مالیت کے اس منصوبے سے سالانہ 4 لاکھ 91 ہزار ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کےمساوی اخراج میں کمی متوقع ہے جبکہ ہر کسان کے لیے سالانہ تقریباً 3 لاکھ روپے کی بچت کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ایک اور منصوبہ ٹیکسٹائل ویسٹ ری سائیکلنگ سے متعلق ہے جس کے تحت سالانہ 2 لاکھ 70 ہزار ٹن فضلہ کو ری سائیکل کر کے قالین، کشن اور دیگر مصنوعات تیار کی جائیں گی، جن میں سے 95 فیصد مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔تقریباً 20 ملین ڈالر سرمایہ کاری کے حامل اس منصوبے کو حکومتی اور ڈونر سپورٹ حاصل ہوگی جبکہ اس سے 20 سے 40 فیصد تک معاشی منافع اور چار سال میں سرمایہ واپس آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔دستاویز میں ان منصوبوں کو پاکستان میں گرین سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار سرکلر اکانومی کی جانب منتقلی کے لیے اہم اقدامات قرار دیا گیا ہے۔

