بی آئی ایس پی کے تحت87 سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 50 لاکھ سے زائد خواتین اور بچے موسمیاتی مزاحمتی منصوبے سے مستفید

اسلام آباد-8مئی (اے بی سی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت جاری ’’سوشل پروٹیکشن فار ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ ریزیلینس‘‘ منصوبے سے 87 سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں 54 لاکھ 61 ہزار سے زائد حاملہ خواتین اور دو سال سے کم عمر بچے مستفید ہوئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو کی جانب سے 2 کروڑ 70 لاکھ یورو گرانٹ سے مالی معاونت حاصل کرنے والے اس منصوبے کا آغاز 9 جون 2023 کو معاہدے پر دستخط کے بعد کیا گیا۔ منصوبے کا مقصد سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا اور خاص طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موسمیاتی خطرات سے دوچار آبادی کی صحت اور غذائی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔

منصوبے کے تحت فنڈز کا ایک بڑا حصہ، یعنی ایک کروڑ 80 لاکھ یورو، سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں غذائیت سے متعلق مشروط نقد امداد کے لئے مختص کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت مستحقین کو ماؤں اور کم عمر بچوں کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر سہ ماہی ایک ہزار روپے فراہم کئے گئے۔

اس اقدام میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے ایک شاک رسپانسیو سماجی تحفظ کا نظام بھی شامل کیا گیا جس کے تحت سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو دو سال تک مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس سے موسمیاتی آفات کے دوران بروقت مدد ممکن ہوئی اور کمزور خاندانوں کو تباہی کے بعد کے اثرات سے نمٹنے میں سہولت ملی۔منصوبے کے ایک اہم حصے میں ایسے سماجی تحفظ کے نظام کی تشکیل پر توجہ دی گئی جو موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔

اس مقصد کے لئے فزیبلٹی سٹڈیز، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور پیشگی حفاظتی اقدامات کی حکمت عملیاں تیار کی گئیں تاکہ مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔یہ منصوبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان سماجی تحفظ کو موسمیاتی مزاحمت کے ساتھ مربوط کرنے پر بڑھتی ہوئی توجہ دے رہا ہے تاکہ فوری امدادی اقدامات کے ساتھ طویل مدتی نظام بھی مضبوط بنایا جا سکے اور کمزور طبقات کو مؤثر سہارا فراہم کیا جا سکے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے