اتوار. مئی 19th, 2024

سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری سے سالانہ تین سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ سروے رپورٹ

سگریٹ انڈسٹری میں ٹیکس چوری سے سالانہ تین سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ سروے رپورٹ

اسلام آباد(فنانس رپورٹر): اس وقت پاکستان میں ٹیکس سٹیمپ کے بغیر 165سگریٹ برانڈز فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک غیر قانونی سگریٹ تجارت کا حجم 56فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس بات کا انکشاف اپسوس پاکستان نے ‘پاکستان سگریٹ مارکیٹ اسیسمنٹ 2024 ‘کے عنوان سے ریسرچ رپورٹ میں کیا۔ اس تحقیقاتی ریسرچ کیلئے بین الاقوامی مروجہ طریقہ کار کے تحت نمایاں شہری و دیہی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دوکانوں کا سروے کیاگیا۔ریسرچ رپورٹ میں مارکیٹ کے خدو خال میں نمایاں تبدیلی کا جائزہ پیش کیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ قانونی سگریٹ برانڈز کے حجم میں غیر معمولی کمی اور غیر قانونی سگریٹوں کی موجودگی میں حیران کن اضافہ سمیت ایسے تمام عوامل نہ صرف قومی خزانے پر شدید اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ ان سے قانونی کاروباروں کے استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق کم قیمت کے غیر ڈیوٹی ادا شدہ اور سمگل سگریٹوں کی ملک بھر میں با آسانی دستیابی، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عمل درامد نہ ہونا، حکومت کی مقرر کردہ حد سے کم قیمت پر سگریٹوں کی فروخت، سگریٹ کی قیمتوں میں عدم توازن اور ایسے متعددمتعلقہ مسائل کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والی قانونی سگریٹ انڈسٹری کے مارکیٹ شئیر میں کمی ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تین سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ اپسوس نے ان علاقوں کے سروے کے دوران وہاں پرغیر ڈیوٹی ادا شدہ اور سمگل سگریٹوں کی دستیابی، ان کی قیمتوں اور ان کے حجم کا جائزہ لیا۔ ساتھ ہی ان علاقوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور کم از کم مقررہ قیمت پر فروخت کے قانون کی تعمیل، دستیاب سگریٹوں کی قیمتوں میں عدم تواز ن اور مارکیٹوں میں ایک نئے رجحان کا بھی احاطہ کیا۔اس وقت 37نئے سگریٹ برانڈز کے اضافے سے بغیر ٹیکس سٹیمپ کے برانڈز کی مجموعی تعداد 165ہو گئی ہے اور سال بہ سال 6برانڈز ٹریک اینڈ ٹریس لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں تاہم متعدد ایسے واقعات مشاہدے میں آئے ہیں کہ وہی برانڈز بغیر سٹیمپ کے بھی مارکیٹوں میں فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔زمینی حقائق کی وجہ سے ٹریک اینڈ ٹریس نظام ابھی تک مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔اس وقت 104سگریٹ برانڈز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم قیمت سے بھی کم پر مارکیٹوں میں دستیاب ہیں جبکہ45سمگل شدہ سگریٹ برانڈز ایسے ہیں جو اس مقررہ قیمت سے زائد پر فروخت ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں مقررہ قیمتوں سے کم پر فروخت ہونے والے سگریٹ برانڈز کا مجموعی حجم 53فیصد بنتا ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب سگریٹوں کی قیمتوں میں عدم تواز ن کا جائزہ پیش کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک معروف برانڈ جو مقامی طور پر تیارکیا جاتا ہے اور جس پر حکومت کو ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جاتا، اس کا سگریٹ پیک مارکیٹوں میں 120روپے پر باآسانی دستیاب ہے جبکہ ایک اور سمگل شدہ مشہور برانڈ کا سگریٹ پیک 165روپے پر دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے پر معروف برانڈز جن پر حکومت پاکستان کو تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کیے جاتے ہیں وہ 220اور550روپے پر دستیاب ہیں۔تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سگریٹ مارکیٹ کا 95فیصد ایسے سگریٹوں پر مشتمل ہے جن کی قیمت 65روپے سے220روپے فی پیکٹ کے درمیان ہیں۔مقامی سطح پر تیار ہونے والے متعدد برانڈز جن پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا، وہ 25اور30 سگریٹوں کی پیکنگ میں بھی با آسانی دستیاب ہیں۔ اس سے نہ صرف دوکانوں پر کھلے سگریٹوں کی فروخت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے بلکہ 20سگریٹوں کے پیک کے مقابلے میں پرچون فروشوں کو زیادہ منافع حاصل ہو رہا ہے۔ مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے اپسوس کا اپنی تحقیقاتی سٹڈی میں کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو مستقبل میں بھی مقامی غیر ٹیکس ادا شدہ سگریٹ تیار کنندگان اور سمگلروں کا مارکیٹوں پر قبضہ برقرار رہے گا جبکہ ایسی سگریٹ ساز کمپنیاں جو باقاعدگی سے ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کرتی ہیں،انکے مارکیٹ شئیر میں مزید کمی واقع ہو گی اور یہ شئیر غیر قانونی سگریٹ سیکٹر کو منتقل ہو جائے گا۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے